الفتاویٰ الحدیثیۃ
دسویں صدی ہجری کے ایک شافعی فقیہ علامہ ابوالعباس احمد بن محمد ابن حجر ہیتمی مصری مکی (وفات: 973ھ) کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کے فتاویٰ میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ علیہ الرحمۃ پر نہایت سخت لے دے کی گئی ہے اور شیخ الاسلام کی طرف منسوب مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ :
ابن حجر مکی نے خود تو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تصنیفات دیکھی نہیں تھیں ، البتہ اس عہد کے بعض متعصب علماء و مشائخ کی باتیں پڑھ کر اور زیادہ تر شیخ الاسلام کے خلاف جاری کردہ شاہی اعلانات کو دیکھ کر غلط فہمی میں پڑ گئے اور دوسروں کو بھی غلط فہمی میں مبتلا کیا۔
بحوالہ : تذکرہ ، ص:236
انہی ابن حجر مکی نے شرح "شمائل ترمذی" میں جب شیخ الاسلام اور حافظ ابن قیم کو برا بھلا کہا تو ان ہی کے شاگرد ملا علی قاری حنفی علیہ الرحمۃ نے پُرزور الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا :
أنهما كانا من أهل السنة والجماعة بل ومن أولياء هذه الأمة
شیخ و تلمیذ دونوں نہ صرف اہل سنت و الجماعت سے تھے بلکہ امت محمدیہ کے اولیاء سے تھے۔
بحوالہ : مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ، ج:4 ، ص:420
("مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح" مکتبہ الشاملہ پر بشکل ورڈ فائل ، یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں)۔
ابن حجر مکی کی کتاب "الفتاویٰ الحدیثیۃ" کا تفصیلی جواب دیا جا چکا ہے۔
اس مشہور ترین جوابی کتاب کا نام ہے : جلاء العینین
تفسیر "روح المعانی" کے مفسر علامہ محمد آلوسی حنفی علیہ الرحمۃ کے فرزند شیخ ابوالبرکات نعمان بن محمود بغدادی نے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے، جو کہ نہایت ہی سنجیدہ اور متین تالیف ہے۔ اس کتاب میں ابن حجر ہیتمی کے ہر ہر شبہ کو حل کرتے ہوئے مسائل و مختاراتِ شیخ الاسلام کی تفصیلی تحقیق و تنقیح کی گئی ہے۔
"جلاء العینین" ورڈ فائل (474 صفحات) کی شکل میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔
Tuesday, June 15, 2010
Monday, June 29, 2009
ابن تیمیہ کی عظمت
ایک جرمن اسکالر نے لکھا ہے:
" اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو عظیم الشان تحریک امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) سے شروع ہوئی اور جس میں اسلام کے اصلی و حقیقی اجحانات پوری طاقت سے ظاہر ہوئے، اس نے کثیر اندرونی و بیرونی خطروں کے مقابلے میں اسلام کی خود اعتمادی کا زبردست ثبوت پیش کیا ہے جو تیرہویں صدی عیسوی میں اسلام کے وجود کو لاحق تھے- صلیبی جنگوں اور ان سے بھی زیادہ تاتاری یلغاروں نے مسلمانوں کی قوت کو مفلوج اور ان کی خود اعتمادی کو بہت مضمحل کردیا تھا- اشعری اصول و عقائد کارآمد نہیں ہوسکتے تھے- صوفیوں کا عقیدہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے اخلاق کو کمزورکرنے والا ثابت ہوا تھا- اسلامی دنیا میں ولی پرستی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی تعلیمات کے ساتھ لگاتار متصادم تھی- ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) اور ان کے تلامذہ اپنی دعوت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی پوری اہلیت رکھتے تھے- وہ بڑے ہی پرجوش و سرکرم تھے- انھوں نے بڑی مردانگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اعلان کیا، ایسا اعلان جو عطیم حیالات کے زیر اثر انسان ہی سے ممکن ہے-"
اسی اسکالر نے ایک دوسری جگہ یوں تحریر کیا ہے:
" اسلام، رومن کیتھولک مسیحیت کی طرح ہوگیا تھا مگر ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے اس کی ازسرنو تحدید کردی-"
" اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو عظیم الشان تحریک امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) سے شروع ہوئی اور جس میں اسلام کے اصلی و حقیقی اجحانات پوری طاقت سے ظاہر ہوئے، اس نے کثیر اندرونی و بیرونی خطروں کے مقابلے میں اسلام کی خود اعتمادی کا زبردست ثبوت پیش کیا ہے جو تیرہویں صدی عیسوی میں اسلام کے وجود کو لاحق تھے- صلیبی جنگوں اور ان سے بھی زیادہ تاتاری یلغاروں نے مسلمانوں کی قوت کو مفلوج اور ان کی خود اعتمادی کو بہت مضمحل کردیا تھا- اشعری اصول و عقائد کارآمد نہیں ہوسکتے تھے- صوفیوں کا عقیدہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے اخلاق کو کمزورکرنے والا ثابت ہوا تھا- اسلامی دنیا میں ولی پرستی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی تعلیمات کے ساتھ لگاتار متصادم تھی- ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) اور ان کے تلامذہ اپنی دعوت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی پوری اہلیت رکھتے تھے- وہ بڑے ہی پرجوش و سرکرم تھے- انھوں نے بڑی مردانگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اعلان کیا، ایسا اعلان جو عطیم حیالات کے زیر اثر انسان ہی سے ممکن ہے-"
اسی اسکالر نے ایک دوسری جگہ یوں تحریر کیا ہے:
" اسلام، رومن کیتھولک مسیحیت کی طرح ہوگیا تھا مگر ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے اس کی ازسرنو تحدید کردی-"
at
5:00 AM
Friday, June 5, 2009
سبسکرائب کریں :
ابنِ تیمیہ بلاگ کے مضامین (Atom)