Monday, June 29, 2009

ابن تیمیہ کی عظمت

ایک جرمن اسکالر نے لکھا ہے:

" اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو عظیم الشان تحریک امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) سے شروع ہوئی اور جس میں اسلام کے اصلی و حقیقی اجحانات پوری طاقت سے ظاہر ہوئے، اس نے کثیر اندرونی و بیرونی خطروں کے مقابلے میں اسلام کی خود اعتمادی کا زبردست ثبوت پیش کیا ہے جو تیرہویں صدی عیسوی میں اسلام کے وجود کو لاحق تھے- صلیبی جنگوں اور ان سے بھی زیادہ تاتاری یلغاروں نے مسلمانوں کی قوت کو مفلوج اور ان کی خود اعتمادی کو بہت مضمحل کردیا تھا- اشعری اصول و عقائد کارآمد نہیں ہوسکتے تھے- صوفیوں کا عقیدہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے اخلاق کو کمزورکرنے والا ثابت ہوا تھا- اسلامی دنیا میں ولی پرستی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی تعلیمات کے ساتھ لگاتار متصادم تھی- ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) اور ان کے تلامذہ اپنی دعوت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی پوری اہلیت رکھتے تھے- وہ بڑے ہی پرجوش و سرکرم تھے- انھوں نے بڑی مردانگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اعلان کیا، ایسا اعلان جو عطیم حیالات کے زیر اثر انسان ہی سے ممکن ہے-"

اسی اسکالر نے ایک دوسری جگہ یوں تحریر کیا ہے:
" اسلام، رومن کیتھولک مسیحیت کی طرح ہوگیا تھا مگر ابن تیمیہ (رحمہ اللہ) نے اس کی ازسرنو تحدید کردی-"

Friday, June 5, 2009

افتتاحیہ

پہلا مراسلہ